انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کی پاکستان میں بھی گونج: ’یہاں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے، آرام سے گھر میں بیٹھیں‘

کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’پاکستان میں تبدیلی کے لیے نوجوانوں کی قیادت میں ایک بڑے پیمانے کی تحریک کیوں سامنے نہیں آ رہی، جیسا کہ ہم حال ہی میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور اب انڈیا میں دیکھ چکے ہیں؟‘

یہ سوال امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ اور جنوبی ایشیا امور کے ماہر مائیکل کوگلمین نے گذشتہ روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر یہ سوال پوچھا۔

کوگلمین نے یہ سوال حال ہی میں انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بینر تلے نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کے پس منظر میں پوچھا گیا۔

اس تحریک کی شروعات انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے چند متنازع ریمارکس سے ہوئی تھی۔ ایک عدالتی سماعت کے دوران انھوں نے مبینہ طور پر صحافت اور سماجی سرگرمیوں کی جانب راغب ہونے والے بے روزگار نوجوانوں کا موازنہ ’کاکروچوں‘ سے کیا تھا۔

اگرچہ بعد میں انھوں نے وضاحت کی کہ ان کا بیان مجموعی طور پر نوجوانوں کے بارے میں نہیں بلکہ ’جعلی اور بوگس ڈگریوں‘ کے حامل افراد کے حوالے سے تھا۔ تاہم اس وقت تک یہ معاملہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن چکا تھا اور اسی ردعمل سے سی جے پی کے نام سے ایک طنزیہ احتجاجی تحریک نے جنم لیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کا نام انڈیا میں برسر اقتدار سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ایک طرح کا طنز بھی ہے۔

ایک بینر جس پر لکھا ہے ’میں بھی کاکروچ ہوں‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

چند ہی دنوں میں لاکھوں افراد نے سی جے پی کے گوگل فارم کے ذریعے اپنی رجسٹریشن کروائی اور اس تنظیم کا حصہ بن گئے۔ نوجوان طنزاً کاکروچ کا لقب اپنانے لگے، سوشل میڈیا پر ’میں بھی کاکروچ ہوں‘ کا ہیش ٹیگ مقبول ہوا اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے بھی اس تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر سی جے پی کے فالوورز کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی۔

اسی تحریک کے تحت پھر انڈیا میں امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے مرکز میں واقع جنتر منتر پر ہزاروں افراد جمع ہوئے اور پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران مظاہرین اور پولیس کی جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اس پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کا وعدہ کیا اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ بھی دیا۔

نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

نریندر مودی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی جس میں امتحانی اصلاحات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کیا۔ 26 جولائی کو جاری کردہ اس ویڈیو پیغام میں انڈین وزیر اعظم نے کہا: ’ٹاسک فورس کی رپورٹ کی روشنی میں جلد از جلد ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے ان امتحانات کی شفافیت اور قابلِ اعتماد ہونے کو یقینی بنایا جا سکے گا۔‘

پاکستان میں ’جین زی‘ تحریک کیوں نہ شروع ہوئی؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈیا میں ہونے والے ان مظاہروں اور مظاہروں کے نتیجے یا دباؤ میں کیے گئے حکومتی اقدامات کو پاکستان میں بھی گہری دلچسپی سے دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر طنزیہ تبصروں اور میمز کے ساتھ ساتھ یہ سنجیدہ بحث بھی سامنے آئی کہ نوجوانوں کی قیادت میں ایسی تحریکیں پاکستان کے قریبی ممالک سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور اب انڈیا میں حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، یہاں تک کہ حکومتیں تک بدل سکتی ہیں تو پاکستان میں اسی نوعیت کی کوئی وسیع عوامی تحریک کیوں جنم نہیں لے رہی۔

مائیکل کوگلمین نے بھی اپنے تبصرے میں پوچھا کہ سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور انڈیا میں ’ان تحریکوں کو جن عوامل نے جنم دیا۔ جیسے کہ بد عنوانی، جبر، بے روزگاری اور بیگانگی، وہ تو پاکستان میں بھی بڑی حد تک موجود ہیں۔‘

سوال اٹھانے کے ساتھ مائیکل کوگلمین نے خود بھی اس کے چند ممکنہ جوابات پیش کیے۔ ان کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کی قیادت میں ایک بڑے عوامی احتجاجی اتحاد کے نہ ابھرنے کی وجوہات میں موجودہ جابرانہ سیاسی ماحول، مختلف سماجی و سیاسی تحریکوں کے درمیان عدم اتحاد، معاشرے میں پائی جانے والی تقسیم اور 1980 کی دہائی سے طلبہ یونینز پر عائد پابندی شامل ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین

،تصویر کا ذریعہVipin Kumar/Hindustan Times

کوگلمین کے سوال پر مختلف نوعیت کے ردعمل سامنے آئے۔ بعض صارفین نے پاکستان میں نوجوانوں کی کسی بڑی تحریک کی عدم موجودگی کو ریاستی اور سیاسی ماحول سے جوڑا، جبکہ کچھ نے اسے سماجی رویوں، قومی شناخت یا موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا۔

عمر قریشی نامی صارف نے اس سوال کی بنیاد ہی سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کو کسی نئی نوجوان تحریک کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول ملک درست سمت میں گامزن ہے، قرضوں کی ادائیگی اور معاشی خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے، اور اس مرحلے پر مشکل فیصلوں کی ضرورت ہے۔

انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے ایڈیٹر اور اینکر ادتیہ راج کول نے رائے دی کہ پاکستان میں نوجوان اور سول سوسائٹی متحرک ضرور ہیں، لیکن ان کے مطابق ایک حد عبور کرنے کی صورت میں انھیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

محمد علی نامی صارف کا ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہx.com/Thecolistin

محمد علی نامی ایک صارف نے دلیل دی کہ پاکستانی معاشرے میں اجتماعی قومی شناخت نسبتاً کمزور ہے۔ ان کے مطابق بیشتر پاکستانی اپنی ترقی کا راستہ اجتماعی جدوجہد کے بجائے انفرادی کوششوں میں دیکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وسیع عوامی تحریک کے لیے درکار اجتماعی احساس پیدا نہیں ہو پاتا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف سرور باری نے اس خیال سے اختلاف کیا کہ پاکستانی نوجوان متحرک نہیں ہیں۔ ان کے مطابق نو مئی (جب سنہ 2023 میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا)، آٹھ فروری (سنہ 2024 میں عام انتخابات) اور 26 نومبر (سنہ 2024 میں تحریک انصاف کا احتجاج) جیسے مواقع پر نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور ’انھوں نے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ریاستی دباؤ کا سامنا کیا۔‘

شاہد محمود نامی صارف نے اس سوال کا جواب پاکستانی سماج اور سیاست کی ساخت میں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اس کی ممکنہ وجوہات میں ’معاشرتی حرکیات، سیاسی نظام کی نوعیت اور قابلِ اعتماد قیادت کا فقدان‘ شامل ہو سکتا ہے۔ شاہد محمود کے مطابق شاید پاکستان کے نوجوانوں کی زیادہ تعداد اب یہ سمجھنے لگی ہے کہ ملک کے حالات میں بہتری لانا ممکن ہی نہیں رہا۔

شاہد محمود نامی صارف کی ایکس پوسٹ

،تصویر کا ذریعہx.com/ShahidMohmand79

جبکہ صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ’چونکہ پاکستان میں سنہ 2002 کے بعد سے ہر ڈھائی سال بعد وزیرِ اعظم بدل رہے ہیں تو احتجاج کے ذریعے حکومت بدلنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔‘

اس موضوع پر اظہار خیال کرنے والوں نے طنز و مزاح کا بھی سہارا لیا۔

سوشل میڈیا پر طنزیہ اور مزاحیہ ویڈیوز پیش کرنے والے کانٹینٹ کری ایٹر عون علی کھوسہ نے بھی اپنے انداز میں اس بحث میں حصہ لیا۔

سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں وہ کہتے ہیں: ’میں ابھی انڈیا کی ریلز دیکھ رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا کہ وہاں طلبہ کس طرح اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے۔‘

اس کے بعد وہ کہتے ہیں ’میرا خیال ہے وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں بھی۔۔۔‘

دیکھنے والے کو ابتدا میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ عون علی کھوسہ کہیں گے ’پاکستان میں بھی اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔‘

تاہم، ان کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ادھورے جملے کے دوران ہی گھنٹی بجنے کی آواز سنائی دیتی ہے، اور پھر عون علی کھوسہ جملہ یوں مکمل کرتے: ’میرا خیال ہے وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں بھی ۔۔۔ یہ سب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہاں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ آرام سے گھر میں بیٹھیں۔‘