ٹرمپ ایران کے خلاف ’بڑے حملے کا فیصلہ کرنے کے قریب‘، امریکہ کو اڈے دینے پر ایران کی برطانیہ کو تنبیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے پر موجود بی-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا، لندن کو خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ ’جائز ہدف‘ ہوگا۔

لائیو کوریج

  1. تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کا طرزِ عمل ’ناقابلِ قبول‘ ہے: عباس عراقچی

    ُعباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے پیرس سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی ضابطوں سے متصادم اقدامات کی روک تھام کی جائے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی نے منگل کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں نوئل بارو سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یہ معاملہ اٹھایا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس موقع پر دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔

    عراقچی نے دونوں فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات تسلیم شدہ سفارتی معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سفارتی مشنز پر میزبان ملک کے قوانین اور ضوابط، نیز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سفارتی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔

    انھوں نے فرانسیسی حکومت پر زور دیا کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

    ایران اور فرانس کے درمیان سفارتی کشیدگی فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں انھوں نے الزام لگایا تھا کہ ایرانی سکیورٹی اداروں نے تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کو حراست میں لیا اور ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا۔

    بارو کا کہنا تھا کہ یہ دونوں سفارتکار ایرانی عوام اور تعلیمی حلقوں کے ساتھ ثقافتی روابط کے فروغ کے ذمہ دار تھے۔

    بعد ازاں فرانس کی وزارتِ خارجہ نے منگل کو پیرس میں ایران کے ناظم الامور کو طلب کیا اور اس واقعے پر احتجاج کیا۔

  2. پزشکیان: مجتبیٰ خامنہ ای تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے، ’ایک اجلاس میں ڈھائی گھنٹے تک گفتگو ہوئی‘

    Tasnim News Agency

    ،تصویر کا ذریعہTasnim News Agency

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اس وقت مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ’رابطے اور ان تک رسائی کی سطح‘ بڑھ گئی ہے۔

    ایران کے صدر نے مذاکرات کے بارے میں ’نامناسب اور غیر ماہرانہ‘ تبصروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری نشریاتی ادارہ صرف مجتبیٰ خامنہ ای کے بیانات کا وہ حصہ نشر کرتا ہے جو ’مذاکرات نہ کرنے‘ سے متعلق ہوتا ہے، جبکہ اسلامی جمہوریہ کے رہنما ’نجی اجلاسوں میں جنگ کی صورتِ حال کے خاتمے اور امن کی ضرورت‘ پر زور دیتے ہیں، اور اسی لیے ’ہم نے مذاکرات کا آغاز کیا۔‘

    مسعود پزشکیان نے صنعتوں، کانوں اور اقتصادی اداروں کے مالکان کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’بعض غلط بیانات، جو مختلف پہلوؤں کو نظرانداز کرتے ہیں، کامیابیوں کو کم تر ظاہر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔‘

    گذشتہ دنوں ایران کے اندر امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور حالیہ مفاہمتی یادداشت کے خلاف وسیع پیمانے پر مخالفت سامنے آئی ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای قیادت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی کوئی آواز یا تصویر نشر کی گئی ہے، بلکہ ان کی جانب سے صرف تحریری پیغامات جاری کیے گئے ہیں۔

    مسعود پزشکیان ان چند افراد میں شامل ہیں جنھوں نے کہا ہے کہ انھوں نے مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔

    انھوں نے وقت اور مقام کا ذکر کیے بغیر، کہا تھا کہ ایک ’اجلاس‘ میں انھوں نے اسلامی جمہوریہ کے رہنما کے ساتھ قریب ’ڈھائی گھنٹے‘ گفتگو کی تھی۔

  3. کویت نے ایران کی جانب سے ڈی سیلینیشن پلانٹ اور بجلی گھر پر حملوں کی تصدیق کر دی

    کویت نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز ایران کی جانب سے سمندری پانی کو پینے کے قابلِ بنانے والے (ڈی سیلینیشن) پلانٹ اور بجلی گھر کو نشانہ بنایا گیا۔

    کویتی انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ چار روز کے دوران اس نوعیت کا یہ ایران کا چوتھا حملہ بتایا جا رہا ہے۔

    کویت کی وزارتِ پانی و بجلی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’ریاستِ کویت کے خلاف ایران کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں مسلسل چوتھے روز متعدد بجلی گھروں اور پانی کے (ڈی سیلینیشن) پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی اہم تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔‘

    چند گھنٹے قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ایک بار پھر کویت میں موجود امریکہ کے تین فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  4. فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، پاکستان مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار جاری رکھے گا: وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی وزیر داخلہ سے گفتگو

    PMO

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی حالیہ صورتحال اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

    وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو۔ ان کے بقول پاکستان ایک ’دیانتدار اور مخلص ثالث اور سہولت کار‘ کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس ماہ کے آغاز میں تہران کے اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے ایران کی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    اعلامیے کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستانی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور ایران کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس کے مطابق سکندر مومنی نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان سفارتی کوششوں کو بھی سراہا جن کے نتیجے میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ طے پائی۔

  5. ایرانی وزیرِ داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سکیورٹی کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعادہ

    پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور دوطرفہ سکیورٹی، اور سرحدی انتظام کو مؤثر بنانے سے متعلق معاملات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ نے پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے ادا کیے جانے والے مستقل اور اہم سفارتی کردار کو سراہا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے اختتام پر علاقائی سکیورٹی اور باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی رابطوں اور باہمی تعاون کے موجودہ طریقۂ کار کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔

  6. جب تک ایران بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں: صدر ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے بے تاب ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’جب تک وہ بامعنی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتے، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔‘

    وہ اوول آفس میں لبنان کے صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے۔

    ایران کے بارے میں اے بی سی نیوز کی نامہ نگار میری بروس کے سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’آپ نہیں جانتیں کہ پسِ پردہ کیا بات چیت ہو رہی ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کے لیے بے تاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران بامعنی انداز میں بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتا امریکہ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    امریکی صدر نے جوہری ہتھیاروں کو ایران کے ساتھ تنازع کی بنیادی وجہ قرار دے دیا۔

    ’یہ سب جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ جوہری ہتھیار ہیں۔ اگر وہ کسی تنصیب کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم اس تنصیب کو نشانہ بنائیں گے۔ ایسی کسی بھی جگہ کو، جہاں وہ جوہری سرگرمیوں کے بارے میں سوچ بھی رہے ہوں گے، ہم پوری طاقت کے ساتھ نشانہ بنائیں گے۔‘

    ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سچ تو یہ ہے کہ انھوں نے ابھی کچھ دیکھا ہی نہیں۔ ہم اب تک نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔‘

    جلد مزید ممالک بھی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں گے: ٹرمپ کا دعویٰ

    اردن کے صدر سے ملاقات کے بعد ابراہیمی معاہدوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ابراہیمی معاہدے ایک زبردست کامیابی رہے ہیں۔ ’میرا خیال میں آپ بہت جلد مزید کئی ممالک کو اس میں شامل ہوتے دیکھیں گے۔‘

    ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اس کا ایک ابتدائی گروپ موجود ہے اور یہ ان کے لیے بہت کامیاب رہا ہے۔ میرے خیال میں لبنان کا بھی اس میں ایک بہت اہم مقام ہے۔‘

    بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی کی دھمکی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اب تک ایسا نہیں ہوا لیکن ممکن ہے کہ ہو بھی جائے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم معاملات سنبھال لیتے ہیں۔ اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو ہم اس سے نمٹ لیں گے۔‘

  7. اہم خبروں کا خلاصہ

    • امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران پر مسلسل 11 ویں رات بھی حملے کیے گئے ہیں۔
    • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے پیرس سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی ضابطوں سے متصادم اقدامات کی روک تھام کی جائے۔
    • ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے منگل کی شام ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔
    • ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بلغاریہ کو تہران کے خلاف امریکی خلاف کارروائیوں میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ’غیر قانونی حملوں‘ میں تعاون جنگی جرائم میں معاونت کے مترادف ہو گا۔
    • آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملک بھر میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے بے تاب ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’جب تک وہ بامعنی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتے، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔‘
    • پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
    • اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی حالیہ صورتحال اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
  8. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان، ایران، مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔