تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کا طرزِ عمل ’ناقابلِ قبول‘ ہے: عباس عراقچی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے پیرس سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی ضابطوں سے متصادم اقدامات کی روک تھام کی جائے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی نے منگل کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں نوئل بارو سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یہ معاملہ اٹھایا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس موقع پر دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔
عراقچی نے دونوں فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات تسلیم شدہ سفارتی معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سفارتی مشنز پر میزبان ملک کے قوانین اور ضوابط، نیز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سفارتی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔
انھوں نے فرانسیسی حکومت پر زور دیا کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
ایران اور فرانس کے درمیان سفارتی کشیدگی فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں انھوں نے الزام لگایا تھا کہ ایرانی سکیورٹی اداروں نے تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کو حراست میں لیا اور ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا۔
بارو کا کہنا تھا کہ یہ دونوں سفارتکار ایرانی عوام اور تعلیمی حلقوں کے ساتھ ثقافتی روابط کے فروغ کے ذمہ دار تھے۔
بعد ازاں فرانس کی وزارتِ خارجہ نے منگل کو پیرس میں ایران کے ناظم الامور کو طلب کیا اور اس واقعے پر احتجاج کیا۔



