نئی دہلی میں طلبہ احتجاج میں شدت، مودی کی پہلی براہِ راست مداخلت، ملوث افراد کو سخت سزا اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کا اعلان

،تصویر کا ذریعہANI
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
انڈیا کا دارالحکومت نئی دہلی کئی دنوں سے احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ جمعے کی شب پہلی بار انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی نے اس معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے امتحانی دھاندلی میں ملوث افراد کو ’سخت سزا‘ دینے کا عہد کیا ہے۔
زیادہ تر نوجوان طلبہ پر مشتمل مظاہرین گذشتہ ماہ سے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بار بار امتحانی پرچوں کے لیک ہونے سے تعلیمی نظام کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ مودی نے براہِ راست ان احتجاجی مظاہروں پر ردِعمل دیا ہے، جو امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کے بعد ملک بھر میں طلبہ کے غصے کا سبب بنے ہیں۔
20 جولائی کو دارالحکومت کے مرکز میں واقع جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شامل ہزارو افراد نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، جسے روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔
اس کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں مظاہرین زخمی ہوئے۔ دہلی پولیس کا الزام ہے کہ مظاہرین نے پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں اس کے 178 اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، ’ہمارے نوجوانوں کی فلاح اور مستقبل سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں۔‘ انھوں نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملات میں ملوث افراد کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا، ’جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔‘
تاہم مظاہرین کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے یا برطرفی کے مطالبے پر مودی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ اس تنازع کے بعد وفاقی حکومت نے اعلیٰ بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں کی ہیں، جن میں سیکریٹری برائے اعلیٰ تعلیم وینیت جوشی کا تبادلہ بھی شامل ہے۔
وزیر اعظم کے اعلان کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے امتحانات میں بدعنوانی کی روک تھام کے قانون 2024 کے تحت مقدمات کی سماعت کے لیے فوری طور پر ایک نئی فاسٹ ٹریک عدالت قائم کر دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالتی حکمنامے کے مطابق یہ خصوصی عدالت عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ 2024 کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد امتحانی بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اور نقل جیسے جرائم سے متعلق کیسز کو جلد نمٹانا اور ذمہ دار افراد کو بروقت انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے۔
مظاہرین کے دیگر مطالبات میں سماجی کارکن سونم وانگچک کو ہسپتال سے ڈسچارج کرنے اور یہ یقین دہانی کرانے کا مطالبہ شامل ہے کہ احتجاج میں حصہ لینے والوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
مظاہرین کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ نیٹ 2026 کے مبینہ پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پولیس کی جانب سے کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کے خلاف کارروائی کے بعد بھی ہزاروں افراد ایک بار پھر دہلی میں جمع ہوئے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ تعلیمی اور امتحانی نظام سے متعلق اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھیں گے، جبکہ پولیس کارروائی نے اس تحریک کے لیے حمایت میں مزید اضافہ کیا ہے۔
سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف مبینہ بے جا طاقت کے استعال کی مذمت کی جا رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں پرامن احتجاج کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور مظاہرین کے خلاف نامناسب طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے بورڈ کے چیئرمین آکار پٹیل کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پرامن مظاہرین کے خلاف غیر متناسب طاقت کا استعمال کیا گیا اور انھیں پارلیمنٹ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکام نے میٹرو سروسز اور موبائل انٹرنیٹ بند کر کے پرامن اجتماع کے حق پر مزید قدغنیں لگائیں۔
جنتر منتر کے اطراف ڈیڑھ کلومیٹر کے علاقے میں آٹھ گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ اس اقدام پر ردِعمل دیتے ہوئے مظاہرین اور ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’حکومت آخر کیا کرنا چاہتی ہے؟‘ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کا مقصد احتجاج کے دوران معلومات کی ترسیل، رابطوں اور سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کو محدود کرنا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب حکام مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ایسے اقدامات امن و امان برقرار رکھنے، افواہوں کی روک تھام اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
کانگریس کے رہنما اور انڈین پارلیمنٹ میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟ ’انھیں طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے اور طلبہ پر تشدد کا یہ سلسلہ بند کرنا چاہیے۔‘
عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ ’بچوں کے ساتھ جو بربریت کی گئی وہ انتہائی شرمناک ہے۔‘
یہ احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟
دراصل یہ احتجاج داخلے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف گذشتہ تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور سٹوڈنٹس وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس احتجاج میں شمالی انڈیا کے لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کی شمولیت نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
لیکن اس بھوک ہڑتال میں ان کے علاوہ تقریبا نصف درجن دیگر طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں، جن میں سے تین تو پہلے ہی ہسپتال منتقل ہو گئے تھے لیکن تین طلبہ نیہا بورا، امین امیتوج اور منیش کمار نے سوموار کو 23 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد اراکین پارلیمان، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ماہرینِ تعلیم کی اپیلوں پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اگرچہ اس کی نوعیت اور صورت مختلف ہوگی۔ ان تینوں طلبہ و طالبات کا تعلق آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) سے ہے۔
بھوک ہڑتال
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی ایک جماعت کا احتجاج نہیں رہا بلکہ یہ بڑے پیمانے پر ملک میں موجودہ تعلیمی صورت حال سے مایوس نوجوانوں کے احتجاج کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں پی ایچ ڈی کی طالبہ اور آئیسا کی قومی صدر نیہا نے کہا: ’لاکھوں طلبہ اور نوجوانوں کے ہجوم کو دیکھ کر ہمیں جس قدر خوشی ہوئی، وہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کی خوشی سے بھی زیادہ ہے۔ تعلیم کے مسئلے پر اس قدر مضبوط عوامی بیداری اور تحریک کا خاص طور پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے سوموار (20 جولائی 2026) کو مظاہرین پر پولیس کے لاٹھی چارج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پولیس یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ’یہ جدوجہد ان کے اپنے بچوں کے لیے ہے، جو ایک دن ڈاکٹر اور انجینیئر بننا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کا لاٹھی چارج صرف ہم پر نہیں، بلکہ ان کے اپنے بچوں کے مستقبل پر حملہ ہے۔ میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس تحریک کا ساتھ دیں، کیونکہ بھوک ہڑتال کے خاتمے کے بعد یہ جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مطالبات
دوسری جانب طلبہ یونین آئیسا نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’طلبہ رہنماؤں نے انتہائی بہادری کے ساتھ یہ جدوجہد کی ہے۔ ان سب کے جسمانی وزن میں 12 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی، ان کے خون میں شوگر کی سطح خطرناک حد تک کم رہی، اور ان کے اعضا پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہوئے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں نے ان کے لیے انفرادی غذائی منصوبے تیار کیے ہیں تاکہ انھیں دوبارہ خوراک شروع کرنے کے بعد ہونے والی طبی پیچیدگی، یعنی ’ریفیڈنگ سنڈروم‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آئیسا سے تعلق رکھنے والے جے این یو سٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر این سائی بالاجی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ایک ماہ طویل مہم چلائیں گے، جس میں جنتر منتر پر پیش کیے گئے مطالبات کو دہرایا جائے گا۔
احتجاج کرنے والوں کے تین مطالبات ہیں جس کا اظہار انھوں نے مرکزی وزیر جے پی نڈا کے ساتھ ملاقات میں بھی کیا۔ سی جے پی کے ترجمان سورو داس اور امیتابھ رنکا نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر جے پی نڈا کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنے مطالبات کا ذکر کیا ہے۔
دونوں ترجمان کی طرف سے جے پی نڈا کو پیش کردہ مبینہ خط میں تین مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق جے پی نڈا کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مناسب سطح پر بات کریں گے۔
خطرے کی گھنٹی؟

،تصویر کا ذریعہBBC/Areeba Ansari
بی بی سی ہندی کے لیے پروین لکھتی ہیں کہ انڈیا میں ایک سوال بار بار اٹھایا جا رہا تھا کہ چند دنوں میں سوشل میڈیا پر کروڑوں فالوورز حاصل کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کتنی مضبوط ہے؟
اس سوال کا جواب حالیہ احتجاج کے دوران مل گیا جب طلبا بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔
صحافی سمیتا شرما، جو گزشتہ ایک ماہ سے نوجوانوں کی اس تحریک کی کوریج کر رہی ہیں، کا ماننا ہے کہ ’ان بچوں نے مرکزی حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ مسئلہ صرف تعلیمی نظام کا نہیں ہے، بلکہ وہ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے دیگر مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتی۔‘
تاہم ایک سوال باقی ہے کہ نوجوانوں کے سڑکوں پر نکلنے سے کیا حاصل ہوا؟
بی بی سی ہندی کے لیے پروین لکھتی ہیں کہ ہم نے اس سوال کا جواب ان صحافیوں اور ماہرین سے جاننے کی کوشش کی ہے جو اس تحریک کی کوریج کر رہے ہیں۔
سمیتا شرما نے کہا کہ ’کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوں پر آئیں گے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ اس تحریک کی وجہ سے مستقبل میں حکومت کے لیے چیلنج کتنا بڑھے گا، سمیتا شرما نے کہا کہ ’اگر حکومت اس احتجاج سے کوئی پیغام نہیں لے گی، تو یہ بہت بڑی غلطی ہوگی کیونکہ نوجوانوں نے واضح کردیا کہ وہ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ اگر CJP نے انھیں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے سے روک دیا تو بھی جنتر منتر پر ہزاروں کا ہجوم پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرے گا۔‘
’یہ حکومت کے لیے ایک سنگین پیغام ہے کہ مایوسی کا احساس ہے جو اگر نہ سنا گیا تو غبارے کی طرح پھٹ جائے گا، اور آنے والے دنوں میں یہ دوبارہ پھٹ سکتا ہے۔‘
سینئر صحافی ہیمنت اتری سمیتا شرما کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’نوجوانوں کا یہ مظاہرہ آنے والے دنوں میں مودی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بننے والا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس مظاہرے کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے دکھایا کہ اس ملک میں جمہوریت مضبوط ہے، اس کی جڑیں مضبوط ہیں۔ حکومت اسے کمزور نہیں کر سکتی۔‘
’یہ حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، وہ عوام کو زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کر سکے گی۔ حکومت کو خود کو جوابدہ ہونا پڑے گا، ورنہ عوام سڑکوں پر آنا نہیں بھولیں گے۔ اس کے اثرات طویل عرصے میں محسوس ہوں گے۔ ہماری جمہوریت ہمیں خیرات کے طور پر نہیں دی گئی، ہم نے کمائی۔ اور جو دہلی کی سڑکوں پر نظر آیا وہ ہماری جمہوریت کی طاقت ہے۔‘
ہیمنت اتری کہتے ہیں کہ ’حکومت سمجھتی ہے کہ وہ ہندو مسلم کے نام پر اپنی سیاست چلا سکتی ہے لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ عوام بنیادی مسائل کی طرف لوٹ رہے ہیں، اور نوجوانوں کا اس طرح سے آگے آنا حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔‘



















