پرتگال سے جہیز میں ملا بمبئی جو برطانوی بادشاہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو دس پاؤنڈ سالانہ کرایے پر دیا

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

،تصویر کا کیپشن1754 میں بمبئی اور مالابار کا ساحل
    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ایسی شادی کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے جس میں دُلہا بَری میں دُلہن کے ملک کو فوجی اور بحری مدد کی ضمانت دے اور دُلہن جہیز میں صرف دولت اور تجارتی مراعات ہی نہیں بلکہ ایسے علاقے بھی لائی ہو جن میں سے ایک آگے چل کر دنیا کا بڑا مالیاتی، تجارتی اور فلمی مرکز بمبئی بنا، جسے آج ممبئی کہا جاتا ہے۔

سترھویں صدی کی اس شاہی شادی میں دُلہا تھے انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے بادشاہ چارلس دُوَم، اور دُلہن پرتگال کے بادشاہ جون چہارم کی بیٹی کیتھرین آف براگانزا۔

مگر یورپ میں سیاسی اتحاد قرار دی گئی اس شادی میں بحیرۂ عرب کے کنارے واقع سات چھوٹے جزیروں پر مشتمل یہ ساحلی بستی جہیزکا حصہ کیسے بنی، جو بعد میں بمبئی اور آج ممبئی کہلائی؟

کولابا، اولڈ وومنز آئی لینڈ (لٹل کولابا)، بمبئی، مازاگاؤں، پریل، ورلی اور ماہم نام کے یہ جزیرے صدیوں تک مختلف مقامی ہندو اور مسلم حکمرانوں کے زیرِ نگیں رہے تھے۔

António Manuel da Fonseca

،تصویر کا ذریعہAntónio Manuel da Fonseca

،تصویر کا کیپشنسنہ 1498 میں واسکو ڈے گاما کی ہندوستان آمد کے بعد پرتگالیوں نے مغربی ساحل پر اپنی نوآبادیاتی سلطنت قائم کرنا شروع کی۔

پرتگالی دور

سنہ 1498 میں واسکو ڈے گاما کی ہندوستان آمد کے بعد پرتگالیوں نے مغربی ساحل پر اپنی نوآبادیاتی سلطنت قائم کرنا شروع کی۔ سنہ 1534 میں گجرات کے سلطان بہادر شاہ نے ایک معاہدے کے تحت بمبئی کے یہ سات جزائر پرتگال کے حوالے کیے تو وہ گوا، دمن، دیو، باسین (وسئی) اور چند دوسرے ساحلی علاقوں کے ساتھ مل کر پرتگالی ہند کا حصہ بن گئے۔

یہ علاقے مغل سلطنت کا حصہ نہیں تھے۔ البتہ ان کا مغل سلطنت سے تجارت، سفارت کاری اور کبھی تعاون تو کبھی کشیدگی کا تعلق رہتا تھا۔

ان کا انتظام گوا میں تعینات پرتگالی وائسرائے کے ہاتھ میں تھا جنھیں اٹھارہویں صدی تک جنوبی افریقہ سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک بحرِ ہند اور اس کے گرد و نواح میں واقع پرتگال کی تمام نوآبادیاتی ملکیتوں پر اختیار حاصل تھا۔

پرتگالی دور میں بمبئی میں قلعے، گرجا گھر اور تجارتی بستیاں قائم ہوئیں، مگر اس کی اصل اہمیت ایک قدرتی گہری بندرگاہ تھی۔

پرتگال کی سپین سے آزادی کی جنگ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پرتگال 1580 سے 1640 تک سپین کے زیرِ اقتدار رہا۔ آزادی بحال ہونے کے باوجود سپین نے اسے تسلیم نہ کیا، اس لیے جنگِ بحالیِ پرتگال میں اسے ایک طاقتور اتحادی کی ضرورت تھی۔

مورخ ایڈگر پریسٹیج کے مطابق پرتگال کو یہ طاقتور اتحادی انگلستان کی صورت میں چودھویں صدی ہی سے میسر تھا (اور آج تک ہے)۔

اگرچہ چارلس دوم اور سپین کے درمیان بھی برسلز معاہدہ موجود تھا، مگر تعلقات بگڑ رہے تھے اور سپین جمیکا سمیت انگریزوں کے زیرِ قبضہ علاقے واپس مانگ رہا تھا۔

چارلس دوم حال ہی میں انگلستان، سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے تخت پر بحال ہوئے تھے، اور ان کی شادی کے لیے پرتگال اور سپین دونوں سرگرم تھے جواُس دور کے رواج کے مطابق کسی ایک سے اتحاد کی تجدید کا باعث بنتی۔

مورخین الیسٹر میلکم اورپیئرز بیکر-بیٹس لکھتے ہیں کہ سپین کے بادشاہ فلپ چہارم براگانزا خاندان کے مخالف تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ کیتھرین کی شادی کسی طاقتور یورپی فرمانروا سے ہو۔

’اسی لیے سپین نے کیتھرین کے بجائے یورپ کی دوسری شہزادیوں کے نام چارلس دوم کے لیے تجویز کیے۔‘

ایس۔ ایم۔ وِن ’آکسفرڈ ڈکشنری آف نیشنل بایوگرافی‘ میں لکھتے ہیں کہ سپین کی شدید مخالفت کے باوجود 23 جون 1661 کو پرتگال اور انگلستان کے معاہدۂ ازدواج پر دستخط ہو گئے۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

،تصویر کا کیپشنسنہ 1868 میں لی گئی تصویر: کولابا پوائنٹ کا لائٹ ہاؤس، بمبئی

شاہی شادی اور جہیز

ایس۔ ایم۔ وِن ’آکسفرڈ ڈکشنری آف نیشنل بایوگرافی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اس معاہدے کے تحت انگلستان کو شمالی افریقہ میں طنجہ، ہندوستان میں بمبئی کے سات جزائر، برازیل اور پرتگالی ایسٹ انڈیز میں تجارتی مراعات، پرتگال میں انگریز باشندوں کے لیے مذہبی و تجارتی آزادی، اور بیس لاکھ پرتگالی کراؤن (تقریباً تین لاکھ پاؤنڈ) دیے جانا تھے۔‘

’اس کے بدلے پرتگال کو سپین کے خلاف جنگ میں انگلستان کی فوجی اور بحری مدد حاصل ہوئی، جو بعد میں اس کی آزادی برقرار رکھنے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی، جبکہ کیتھرین آف براگانزا کو انگلستان میں اپنے کیتھولک مذہب پر آزادانہ عمل کی ضمانت بھی دی گئی۔‘

شادی کے معاہدے کی شق 11 بمبئی میں انگریزی اقتدار کی بنیاد بنی۔

اس میں کہا گیا کہ ’بمبئی کا پُرامن قبضہ جلد از جلد مؤثر طریقے سے برطانیہ کے بادشاہ یا اس کے مقرر کردہ نمائندوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘

ایس۔ ایم۔ وِن کے مطابق ’اسی طرح برطانوی بحری بیڑا جب بمبئی کا قبضہ لینے پہنچے گا تو اسے ہدایت ہو گی کہ وہ مشرقِ ہند میں پرتگال کی تمام رعایا کے ساتھ دوستانہ برتاؤ کرے، ان کی تجارت اور جہاز رانی میں مدد دے اور انھیں تحفظ فراہم کرے۔‘

پی جی سٹرن نے اپنی کتاب ’دی کمپنی ۔ سٹیٹ‘ میں لکھا ہے کہ اس سے پہلے بھی کمپنی کی جانب سے موزوں بندرگاہ یا علاقہ حاصل کرنے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور آئی تھیں۔

’ان میں بعض منصوبے مبہم اور ناقص تھے، جن میں فوجی حملے یا سفارتی مذاکرات کے ذریعے کسی علاقے پر قبضے کی بات کی گئی۔ یہاں تک کہ 1654 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے انگلستان کے حکمران اولیور کرومویل کو تجویز دی کہ اس مقصد کے لیے کسی پرتگالی قلعہ بند مقام کو خریدا جائے، اور باسین (وسئی)، موزمبیق یا بمبئی کو موزوں انتخاب قرار دیا تھا۔

کیتھرین آف براگانزا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیتھرین آف براگانزا

بمبئی جہیز میں دینے پر مزاحمت

اکیس مئی 1662 کو چارلس دوم اور کیتھرین آف براگانزا کی شادی ہوئی اور 30 ستمبر کو شاہی جوڑا لندن پہنچا۔ مگر بمبئی کی حوالگی ہندوستان میں پرتگالی حکام، خصوصاً وائسرائے انتونیو دی میلو کاسترو، کی سخت مزاحمت کا شکار ہو گئی۔

کاسترو کا مؤقف تھا کہ بمبئی کی غیر معمولی تزویراتی اہمیت ہے اور اس کی منتقلی پرتگال کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ کبھی یہ سوال بھی اٹھایا جاتا کہ شاہی فرمان صرف بمبئی کے جزیرے پر لاگو ہوتا ہے یا اس کے زیرِ انتظام دیگر علاقوں پر بھی۔

اسی کشمکش کے باعث 1662 میں قبضہ سنبھالنے کے لیے آنے والے انگریزی بحری بیڑے کو ساحل پر اترنے کی اجازت نہ ملی۔

’گزیٹیئر آف دی بمبئی پریزیڈنسی‘ کے مطابق، یہی فوجی دستہ پرتگالی سلطنت کے دفاع اور شاہی شادی کے معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں ہندوستان بھیجا گیا، تاہم بمبئی کی حوالگی کے معاملے میں اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

’پرتگالی حکام نے انگریزوں کو ساحل پر اترنے کی اجازت دینے میں تاخیر کی، جس کے باعث بہت سے سپاہی بیماری اور ناموافق آب و ہوا کا شکار ہو گئے۔‘

اسی دوران میں ایک غیر متوقع موقع بھی سامنے آیا۔

ایم۔ وی۔ کامتھ اپنی کتاب ’ٹائڈز آف ٹائم‘ میں لکھتے ہیں کہ بمبئی کے ایک برہمن نے انگریزوں کو بتایا کہ پرتگالی مظالم سے تنگ آ کر ہندو بغاوت کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ انگریز باہر سے حملہ کریں۔ اس اطلاع پر فوج تیار کی گئی اور ایک جہاز بمبئی فتح کرنے کے لیے روانہ ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے مہم ناکام رہی۔

’سپاہیوں نے نشہ کر لیا اور ناموافق آب و ہوا کے باعث 450 میں سے تقریباً 300 فوجی ہلاک ہو گئے۔‘

یوں بمبئی کی باقاعدہ حوالگی میں تقریباً چار سال لگے اور یہ عمل بالآخر 1665 میں مکمل ہوا۔

لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔

تحقیق ’بمبئی بیفور دی بریٹش‘ کے مطابق، صرف دو ماہ بعد پرتگال کے دارالحکومت لزبن سے ایک شاہی فرمان موصول ہوا جس میں اس منتقلی کو غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا حکم دیا گیا۔

تاہم انگریز عملی قدم اٹھا چکے تھے۔

وہ مزگاؤں، پریل اور پھر ماہم پر قابض ہو گئے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ یہ علاقے بمبئی سے متصل ہیں۔ بعد میں انھوں نے ملحقہ دیگر جزائر بھی اپنے قبضے میں کر لیے۔

بمبئی کا خرچ اور دس پاؤنڈ سالانہ کرایہ

تاہم برطانوی تاج کو احساس ہوا کہ اس کے حصے میں ایک دور افتادہ، غیر صحت بخش اور خسارے کا سودا آیا ہے، جس پر اخراجات تو ہوتے ہیں مگر یہ کوئی خاص آمدنی نہیں دیتا تھا۔ دوسری طرف طنجہ مسلسل مقامی مراکشی افواج کے حملوں کی زد میں رہا، یہاں تک کہ 1684 میں انگریزوں نے اسے خالی کر دیا۔

چنانچہ انھوں (برطانوی حکومت) نے 1668 میں بمبئی اور اس سے ملحقہ جزیروں کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے سپرد کر دیا جو اُس وقت سُورت سے ہندوستان میں اپنی تجارتی سرگرمیاں چلا رہی تھی۔

اس کے عوض کمپنی کو سالانہ محض 10 پاؤنڈ کرایہ ادا کرنا تھا۔ کمپنی نے بادشاہ کو 50,000 پاؤنڈ کا قرض بھی چھ فی صد سالانہ سود پر دیا۔

یوں کمپنی کو وہ نعمت مل گئی جو قریبی سُورت کبھی فراہم نہیں کر سکتا تھا: اپنے جھنڈے تلے اپنی ملکیت کی ایک محفوظ بندرگاہ۔

چارلس دُوَم اور کیتھرین آف براگانزا کی کوئی اولاد نہ ہوئی لیکن ان کی شادی نے برصغیر اور بعد کی برطانوی سلطنت کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنممبئی کے سات جزیروں کا نقشہ اور برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی ایک پرانی تصویر، جو ممبئی میں بی ایم سی ہیڈکوارٹر کے عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔

بمبئی برطانوی اقتدار کی بنیاد

جیمز ڈگلس اپنی کتاب ’اے بک آف بمبئی‘ میں لکھتے ہیں کہ معاہدہ صرف بمبئی کی حوالگی کا قانونی اعلان نہیں تھا بلکہ اس نے برطانوی اقتدار کے لیے ایک مستقل بنیاد فراہم کی، جس پر بعد میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور پھر برطانوی راج نے اپنی طاقت کی عمارت کھڑی کی۔

انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مطابق ابتدا میں بمبئی کمپنی کے لیے کوئی غیر معمولی اثاثہ نہیں تھا، کیونکہ مغل، مراٹھے، پرتگالی اور ڈچ سب اس خطے میں طاقتور تھے۔

’تاہم اٹھارہویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے آغاز میں مغل سلطنت کے زوال، مراٹھا کشمکش اور گجرات کے سیاسی عدم استحکام کے باعث تاجروں اور ہنرمندوں نے بمبئی کا رخ کیا اور 1845 تک ساتوں جزائر ضم بھی کر دیے گئے جس سے اس کی ترقی کی بنیاد پڑی۔‘

انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مطابق ’سنہ 1857 میں یہاں پہلی کپڑا مل قائم ہوئی، 1860 تک بمبئی ہندوستان کی سب سے بڑی کپاس کی منڈی بن چکا تھا، اور 1869 میں نہرِ سویز کے افتتاح نے اسے برطانیہ اور یورپ کے ساتھ تجارت کا ایک اہم عالمی مرکز بنا دیا۔‘

’برطانوی دور میں بمبئی، بمبئی پریذیڈنسی کا دارالحکومت تھا اور انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں ہندوستان کی قوم پرست سیاست کا ایک اہم مرکز بن گیا۔‘

سنہ 1947 میں ہندوستان آزاد ہو گیا۔ برطانوی راج کے خاتمے کے وقت پرتگالی ہند تین حصوں پر مشتمل تھا: گوا، دمن اور دیو جسے انڈین فوج نے دسمبر 1961 میں انڈیا میں شامل کر لیا۔

یوں ایک شاہی رشتہ صرف دو سلطنتوں کے درمیان سیاسی اتحاد نہیں بنا بلکہ اس نے بحرِ ہند میں طاقت کے توازن کو بھی بدل دیا۔

بمبئی جو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور حکومت کا ایک اہم تجارتی مرکز بنا، ترقی کرتے کرتے آج کے ممبئی کی صورت اختیار کر گیا اور دنیا کے بڑے مالیاتی، تجارتی اور فلمی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔