آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پالتو کتا جس نے اندھے قتل کا سراغ لگایا: ’راکی نہ ہوتا تو شاید والد کی لاش کبھی نہ ملتی‘
- مصنف, ساربجیت سنگھ ڈھالیوال
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
موہالی میں ایک پالتو کتے نے قتل کے ایک ایسے مقدمے کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس میں مقتول کئی دن سے لاپتا تھا اور آخر کار کتے کی مدد سے حل ہونے والے اس مقدمے میں پانچ سال بعد اب قاتل کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
یہ واقعہ موہالی کے نیو چنڈی گڑھ علاقے کا ہے۔ پادھول کے رہائشی جاگیر سنگھ عرف گھولا کو پانچ سال پہلے ہونے والے قتل کے مقدمے میں عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔
اس مقدمے میں دو دیگر افراد کو ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے بری کر دیا ہے۔
ضلع موہالی کے گاؤں چھوٹی بڑی نگل کے رہائشی سچا سنگھ بکریاں چرانے کا کام کرتے تھے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ واقعہ 12 جون 2021 کا ہے جب سچا سنگھ دوپہر تقریباً 12 بجے بکریاں چرانے کے لیے گئے تھے اور واپس نہیں آئے۔
شام تک جب سچا سنگھ کا کوئی سراغ نہ ملا تو ان کی اہلیہ سنیتا دیوی نے گاؤں کے چند لوگوں کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کی تلاش شروع کی لیکن ان کا کوئی پتا نہ چل سکا۔
آخرکار اگلے روز سنیتا دیوی نے ملاں پور تھانے میں سچا سنگھ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔
آٹھ دن تک سچا سنگھ کا کوئی پتا نہ چل سکا تاہم گاؤں والوں اور خاندان کے افراد نے ان کی تلاش کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سچا سنگھ کو آخری بار گاؤں پادھول کے ایک فارم ہاؤس کے قریب دیکھا گیا تھا اس لیے خاندان کے افراد اور گاؤں والوں نے فارم ہاؤس کے آس پاس ان کی تلاش شروع کر دی۔ اس دوران وہ سچا سنگھ کے پالتو کتے ’راکی‘ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق جب ’راکی‘ فارم ہاؤس کی دیوار کے قریب پہنچا تو وہ وہاں ایک جگہ جا کر بھونکنے لگا جس کے بعد کھوج لگانے پر وہاں سے ایک مخدوش لاش برآمد ہوئی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق جس جگہ سے سچا سنگھ کی لاش ملی وہ جاگیر سنگھ کی زمین کے قریب تھی۔
پانچ سال، 24 گواہ اور عمر قید
تفتیش کے دوران پولیس کے سامنے پیسوں کا لین دین سامنے آیا۔
پولیس کے مطابق سچا سنگھ نے جاگیر سنگھ عرف گھولا کو دو بکریاں اور چار میمنے 40 ہزار روپے میں فروخت کیے تھے۔
جب سچا سنگھ نے رقم کا مطالبہ کیا تو انھیں قتل کر دیا گیا اور لاش زمین میں دبا دی گئی۔
گرفتاری کے بعد پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں جاگیر سنگھ نے اعتراف کیا کہ سچا سنگھ کا گلا ایک تیزدھاردار ہتھیار سے کاٹا گیا تھا۔ بعد میں پولیس نے اس کی نشاندہی پر وہ ہتھیار بھی برآمد کر لیا۔
بعد ازاں پولیس نے لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا جس سے اس کی شناخت سچا سنگھ کے طور پر ہوئی۔
اس مقدمے میں مجموعی طور پر 24 گواہ عدالت میں پیش ہوئے۔ تقریباً پانچ سال بعد مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے موہالی کی ضلعی عدالت نے جاگیر سنگھ عرف گھولا کو عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ اسی مقدمے میں نامزد دو دیگر شریک ملزمان، ستنام سنگھ عرف سنی اور دیس راج عرف دیسا کو بری کر دیا۔
یہ مقدمہ موہالی ضلع کے ملاں پور تھانے میں درج کیا گیا تھا اور اس کے تفتیشی افسر ایس ایچ او ستندر سنگھ (موجودہ ایس ایچ او زیرک پور) تھے۔
بی بی سی پنجابی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یہ ایک بہت پیچیدہ مقدمہ تھا لیکن شواہد اور لاش کی برآمدگی میں کتے کے کردار کی وجہ سے یہ کیس حل ہو گیا۔
دوسری جانب جاگیر سنگھ کے وکیل ایڈووکیٹ ایچ ایس دھنوا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں جاگیر سنگھ کو جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔
انھوں نے بی بی سی پنجابی کو بتایا کہ وہ موہالی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
لاش کی تلاش میں پالتو کتے راکی کا کردار
قتل کے اس مقدمے کو حل کرنے میں مقتول سچا سنگھ کے پالتو کتے ’راکی‘ نے اہم کردار ادا کیا۔
20 جون 2021 کو جب خاندان کے افراد اور گاؤں والے لاپتا ہونے والے سچا سنگھ کو تلاش کرتے ہوئے ایک فارم ہاؤس کے قریب پہنچے تو ’راکی‘ نے زمین بے چینی سے سونگھنا شروع کر دی۔
اچانک فارم ہاؤس کی دیوار کے نزدیک پہنچ کر ’راکی‘ ایک جگہ رک گیا اور بھونکنا شروع کر دیا۔
اس کے بعد جب خاندان کے افراد نے اس مقام سے مٹی ہٹائی تو وہاں سے سچا سنگھ کی سر کٹی لاش برآمد ہوئی۔
عدالت کے 88 صفحات پر مشتمل فیصلے میں بھی مقدمہ حل کرنے میں کتے کے کردار کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
مقتول کے بیٹے سندیپ سنگھ نے بی بی سی پنجابی کو بتایا کہ ’اگر راکی نے بروقت سونگھ کر اس جگہ کی نشاندہی نہ کی ہوتی تو شاید میرے والد کی لاش کبھی نہ ملتی اور وہ لاپتہ ہی رہتے۔ راکی کی 2023 میں موت ہو گئی تھی لیکن اس سے پہلے وہ اپنی وفاداری کا حق ادا کر چکا تھا۔‘
’ہمیں دو بار آخری رسومات ادا کرنا پڑیں‘
سچا سنگھ کی اہلیہ سنیتا دیوی نے بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جبکہ وہ خود بھی بطور ہیلتھ ورکر کام کرتی ہیں۔
انھوں نے عدالتی فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی تھیں کہ جاگیر سنگھ عرف گھولا کو سزائے موت دی جاتی کیونکہ اس نے ان کے شوہر کو بے رحمی سے قتل کیا تھا۔
انھوں نے رنجیدہ لہجے میں بتایا کہ ’مجھے اپنے شوہر کی آخری رسومات دو مرتبہ ادا کرنا پڑیں۔ پہلے سر کے بغیر ملنے والے دھڑ کی آخری رسومات ادا کیں اور چند روز بعد جب سر برآمد ہوا تو اس کی الگ سے آخری رسومات ادا کرنا پڑیں۔‘
سنیتا دیوی کے مطابق ان کے پالتو کتے ’راکی‘ نے لاش کی تلاش میں اہم کردار ادا کیا اور اسی کے بعد قاتلوں کی گرفتاری ممکن ہو سکی۔
انھوں نے بتایا کہ ’راکی‘ اکثر ان کے شوہر کے ساتھ جاتا تھا۔ جس دن وہ لاپتا ہوئے اس دن راکی ان کے ساتھ نہیں تھا لیکن اس نے اپنے مالک کی لاش ڈھونڈنے میں اہم کردار ادا کیا۔
عدالت کی جانب سے دیے گئے ایک لاکھ روپے کے معاوضے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنیتا دیوی نے کہا کہ شوہر کی موت کے بعد گھر کی آمدن ختم ہو گئی ہے۔
وہ صرف ڈھائی ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر ہیلتھ ورکر کے طور پر کام کر رہی ہیں جبکہ بچوں کی شادیاں بھی ابھی ہونا باقی ہیں اس لیے اتنی کم رقم ان کے لیے کافی نہیں ہے۔