لائیو, اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات: علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے اور اسلام آباد مفاہمت کو آگے بڑھانے پر اتفاق

شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پائیدار امن اور استحکام کے لیے مذاکرات، تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایرانی حملے علاقائی امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں: کویت

    کویت

    ،تصویر کا ذریعہReuters/UGC

    کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے ملک کے خلاف جاری ’مجرمانہ جارحیت‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

    وزارت خارجہ کے مطابق جمعرات کو اس کے العبدلی بارڈر کو متعدد ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جو ریاستِ کویت کی ’خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ، اور بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی سنگین خلاف ورزی‘ ہے۔

    کویتی وزارت نے زور دیا کہ: ’ان بار بار ہونے والے حملوں کا تسلسل ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، جو ایک منظم اور ناقابلِ جواز دشمنی پر مبنی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔‘

  2. ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

    ان کے بقول ان میں ایسے حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران کیے گئے حملوں سے کہیں زیادہ بڑے ہوں۔

    امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک ’بڑے حملے‘ کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ممکنہ کارروائی کے نتائج ہوں گے اور اسی لیے فیصلہ احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔

    دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی امریکی فوج کو اس حوالے سے کوئی نئے احکامات دیے گئے ہیں۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل فوری طور پر کسی نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے امریکہ کو کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر اسرائیل حملوں میں شریک ہوا تو ایران کی جانب سے جوابی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے حالیہ سفارتی تجاویز قبول نہیں کیں اور ’ابھی انھیں کافی نقصان نہیں پہنچا۔‘

    یاد رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانا بنایا جس کے باعث عالمی تیل کی ترسیل کے ایک اور اہم راستے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر خبردار کیا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دوبارہ جہازوں پر حملے کیے تو امریکہ اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حوثی ایران کے حمایتی گروہ ہیں، اس لیے کسی بھی نئی کارروائی کی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  3. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے پر موجود بی-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا، لندن کو خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ ’جائز ہدف‘ ہوگا۔
    • عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیل کی قیمتیں مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
    • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی میں عراق کے ممکنہ کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کافی ثالث موجود ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری سعودی عرب کی ابراہم اکارڈ میں شمولیت سے مشروط ہوگی۔
  4. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔