’میں آتش فشاں کے اندر گر گیا اور لاوے کے درمیان رات گزاری‘: جب ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ تین افراد کو موت کے قریب لے آئی

    • مصنف, آسیا فوکس اور جون کرسٹی
    • عہدہ, بی بی سی آؤٹ لک
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

ایک فعال آتش فشاں کے اندر ہنگامی لینڈنگ۔۔۔ کیا اس سے بھی بدتر کچھ ہو سکتا تھا؟

ہاں، پوری رات وہاں گزارنا۔۔ جہاں پاؤں تلے دھواں چھوڑتے لاوے کے بلبلے موجود تھے۔

یہ نومبر 1992 کی بات ہے اور بلاک بسٹر فلموں ٹائٹینک اور ٹرمینیٹر ٹو کی ویژول ایفکٹس ٹیم سے تعلق رکھنے والے کرس ڈڈی ہوائی کے بڑے جزیرے کے اوپر ایک نئی ہالی وڈ فلم کے مناظر فلمانے کے لیے پرواز کر رہے تھے۔

ان کے ساتھ پائلٹ کریگ ہوسکنگ اور فوٹوگرافی اسسٹنٹ مائیک بینسن بھی تھے۔

وہ بھاپ اور دھند میں گھرے ایک بڑے حصے سے گزرے اور چٹان سے ٹکرا گئے، جس سے انجن مکمل طور پر فیل ہو گیا اور وہ آتش فشانی کیلڈیرا کے اندر جا گرے۔

یہ ان کے الفاظ میں ان کی کہانی ہے۔

ہم فلم Sliver: An Invasion of Privacy کے اختتامی مناظر فلمبند کرنے کے لیے پرواز کر رہے ہیں۔

منظر حیرت انگیز ہے۔

کیلاویا آتش فشاں سے بہتا ہوا لاوا ساحلِ سمندر تک پہنچتا ہے اور پانی سے ملتا ہے، جہاں سے سفید دھویں کا ایک بہت بڑا بگولا اٹھتا ہے۔

میں دل ہی دل میں سوچتا ہوں: ’مجھے یقین نہیں آتا کہ اس کام کے مجھے پیسے دیے جا رہے ہیں۔ یہ دنیا کی بہترین ملازمت ہے۔‘

سنیچر کی صبح ہے اور ہمارے پاس شوٹنگ کرنے کے لیے دو یا تین گھنٹوں کی مہلت ہے کیونکہ ایک طوفان قریب آ رہا ہے۔

فلم میں ہوتا یہ ہے کہ مرکزی کردار آتش فشاں کے اوپر پرواز کرتے ہیں، اس کے اندر غوطہ لگاتے ہیں اور پھر تصویر مدھم ہو جاتی ہے۔

ہم ایک شاٹ لیتے ہیں، اسے دیکھتے ہیں اور مائیک کہتا ہے: ’میرا خیال ہے ہم اس سے بہتر کر سکتے ہیں۔‘

اور پھر سب کچھ بے قابو ہو جاتا ہے۔

جب ہم دوبارہ آتش فشاں کے قریب جاتے ہیں تو بہت زیادہ دھواں نکل رہا ہوتا ہے اور جوں جوں ہم آگے بڑھتے ہیں، وہ اور گھنا ہوتا جاتا ہے۔

ہیلی کاپٹر کا پچھلا حصہ ہلنے لگتا ہے اور کریگ چیختا ہے: ’اوہ خدایا!‘

میں اوپر دیکھتا ہوں اور سب کچھ سفید دکھائی دیتا ہے، بالکل ایسے جیسے بادل کے اندر ہوں۔

کریگ کہتا ہے: ’ہم گرنے والے ہیں۔‘

روٹر بلیڈ ابھی ابھی چٹان سے ٹکرایا ہے اور الگ ہو گیا ہے۔

ہم آزادانہ طور پر نیچے گر رہے ہیں۔

گریگ اور مائیک کے جسم اتنے زور سے جھٹکا کھاتے ہیں کہ ایک لمحے کے لیے میری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔

ٹکرانے پر وہ دوبارہ باہر کی طرف جھٹکا کھاتے ہیں۔

کریگ کے سر پر چوٹ لگتی ہے اور اس کی آنکھ کے پاس گہرا زخم آ جاتا ہے، جس سے خون بہنے لگتا ہے۔

ہم ہیلی کاپٹر سے باہر کودتے ہیں اور میں اردگرد دیکھتا ہوں۔ روٹر غائب ہے، دم والا حصہ ٹوٹ کر زمین پر پڑا ہے۔

نیچے بخارات اتنے شدید ہیں کہ سانس لینا بہت مشکل ہے۔

ہم کھانستے ہیں اور گندھک کی وجہ سے ہماری آنکھوں میں جلن ہوتی ہے۔

میں پوچھتا ہوں: ’کیا ہم آتش فشاں کے اندر ہیں؟‘

کریگ اس کی تصدیق کرتا ہے۔

’کیا کسی کو معلوم ہے کہ ہم گر گئے ہیں؟‘

یہ جگہ بہت وسیع ہے، جیسے فٹبال کے ایک سٹیڈیم کے برابر۔

اور ہم چوٹی سے تقریباً 100 میٹر نیچے ہیں۔

ہمیں کسی نہ کسی طرح یہاں سے نکلنا ہو گا۔

ہم چڑھنا شروع کرتے ہیں لیکن یہ بہت مشکل ہے۔

خشک لاوا ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہا ہے اور انتہائی تیز دھار ہے۔

ایسا لگتا ہے جیسے ہم ٹوٹے ہوئے شیشے پر رینگ رہے ہوں۔

میں شاید آدھے راستے تک پہنچتا ہوں، لیکن یہ ناممکن ہے۔

میں مائیک اور کریگ سے کہتا ہوں: ’مجھے رکنا ہو گا۔ میں مزید نہیں جا سکتا، یہ بہت خطرناک ہے۔‘

میں ایک چھوٹی سی چٹان نما جگہ پر رک جاتا ہوں۔

کریگ کہتا ہے: ’ایک لمحہ رکیں۔ ہمیں پلاننگ کرنا ہو گی۔‘

میں پوچھتا ہوں: ’کیا کسی کو معلوم ہے کہ ہم گر گئے ہیں؟ کیا اب تک کسی کو پتا چلا ہے؟‘

وہ جواب دیتا ہے: ’شاید نہیں۔‘

کریگ مدد طلب کرنے کے لیے ریڈیو ٹھیک کرنے کی غرض سے واپس ہیلی کاپٹر کی طرف جاتا ہے۔

وہ اسے چلا لیتا ہے اور چیختا ہے: ’مے ڈے مے ڈے مے ڈے۔‘

فوراً ہی اسے شدید کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔

’میں سانس نہیں لے سکتا، میں سانس نہیں لے سکتا!‘

وہ قے کرتا اور کھانستا ہے۔

اس کی حالت بہت خراب ہے۔

چند ہیلی کاپٹر آتش فشاں کے اوپر چکر لگانا شروع کر دیتے ہیں اور ہم ایک کی آواز قریب آتی سنتے ہیں۔

لیکن وہ جلد ہی چلا جاتا ہے۔

اور کریگ ہماری آوازوں کا جواب دینا بند کر دیتا ہے۔

ہمیں لگتا ہے کہ اس کے ساتھ بدترین واقعہ پیش آ چکا ہے۔

100 میٹر گہری کھائی

مایوسی ناقابل بیان ہے۔

یہ موت کے قریب کے تجربے جیسا ہے۔

لیکن مائیک اور میری امید قائم ہے، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں کو پتا ہے ہم کہاں سے آئے تھے۔

کچھ دیر بعد ایک زمینی امدادی ٹیم کنارے تک پہنچتی ہے اور اوپر سے آواز دیتی ہے: ’ہم آپ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے!‘

امید کی ایک کرن پیدا ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ہم آپ کو رسی پھینکنے کی کوشش کریں گے۔‘

رسی نیچے آتی ہے، لیکن بہت دور رہ جاتی ہے۔

میں چیختا ہوں: ’چھ میٹر دائیں طرف!‘

رسی کئی بار اوپر نیچے ہوتی ہے اور ہر بار کچھ قریب آ جاتی ہے، لیکن ابھی بھی کافی نہیں۔

مجھے اسے پکڑنے کے لیے چھلانگ لگانی ہو گی، لیکن نیچے سیدھی 100 میٹر گہری کھائی ہے۔

بادل دہانے میں داخل ہونے لگتے ہیں اور بارش شروع ہو جاتی ہے۔

اور پھر تیز تر ہوتی جاتی ہے۔

پھر رسی آنا بند ہو جاتی ہے۔

وہ دوبارہ اسے نہیں پھینکتے۔

آدھا گھنٹہ گزر جاتا ہے۔

ایک گھنٹہ گزر جاتا ہے۔

اور ہمیں کچھ سنائی نہیں دیتا۔

ہم نہیں جانتے کیا ہو رہا ہے۔

تقریباً شام ہونے والی ہے، ایک اور گھنٹہ گزر جاتا ہے اور میں گھبرا جاتا ہوں۔

میں خود سے کہتا ہوں: ’یا خدا، ہم نکل نہیں پا رہے۔ کچھ بہت غلط ہے۔‘

لوگ دوبارہ کنارے پر آتے ہیں اور ہمیں آواز دیتے ہیں۔

’ہم صبح سویرے تک ریسکیو آپریشن معطل کر رہے ہیں۔ پرسکون رہیں، ہم صبح آپ کو لینے آئیں گے۔‘

’رکیں، کیا؟ ہمیں پوری رات ایک فعال آتش فشاں میں رہنا ہوگا؟‘

وہ اوپر کیمپ لگا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر گھنٹے بعد ہماری خبر لیتے رہیں گے۔

وہ سیٹی بجائیں گے اور ہمیں زندہ ہونے کا اشارہ دینے کے لیے جواب میں سیٹی بجانی ہوگی۔

میں اور مائیک پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں سویٹر اور بیس بال کی ٹوپی پہنے ہوئے ہوں۔

میں سویٹر کو سر پر کھینچ لیتا ہوں، اس کے اوپر ٹوپی لگا لیتا ہوں، ایک چھوٹا سا خیمہ سا بناتا ہوں اور صرف سانس ہلکی رکھنے اور آنکھیں زیادہ سے زیادہ بند رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

بس انتظار کرنا ہے اور دعا کرنی ہے کہ جس کنارے پر بیٹھا ہوں وہ ٹوٹ کر مجھے نیچے نہ گرا دے۔

ہم اگلے 12 گھنٹے یا جتنا بھی وقت ہو، یہاں کیسے زندہ رہیں گے؟

ہوا صاف نہیں، ہم سلفر ڈائی آکسائیڈ میں سانس لے رہے ہیں، آنکھوں میں جلن ہے۔

میں نے سوچا: ’بس یہی ہے۔ میرا اختتام اسی طرح ہوگا۔‘

مائیک مجھے تسلی دیتا ہے کہ وہ میرے ساتھ ہے، ہم بات کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھا سکتے ہیں۔

الوداعی لمحے

اندھیرا ہے۔

بارش ہو رہی ہے اور تیز ہوا چل رہی ہے۔

میں بھیگ چکا ہوں۔

مجھے شدید سردی لگ رہی ہے۔

میں بے قابو ہو کر کانپ رہا ہوں۔

کسی بھی طرح آرام نہیں مل رہا۔

اور مجھے ڈر ہے کہ اگر میں سو گیا تو نیچے جا گریں گا۔

میں پوری رات نہیں سوتا۔

اپنے ذہن میں میں اپنے پورے خاندان سے بات کرتا ہوں اور سب سے الوداع کہتا ہوں۔

مجھے لگتا ہے کہ میں رات زندہ نہیں گزار سکوں گا۔

لاوے کے سرخ، نارنجی اور زرد رنگ دھویں اور بھاپ کے درمیان حرکت کر رہے ہیں۔

مجھے نہیں معلوم میں وہم کا شکار ہوں یا نہیں، لیکن مجھے ایک آواز سنائی دیتی ہے۔

یہ کسی پیٹیروڈیکٹائل (قدیم اُڑنے والا جانور) کی چیخ جیسی لگتی ہے۔

پھر دوبارہ سنائی دیتی ہے۔

یہ خوفناک ہے۔

میرے اردگرد چٹانیں گر رہی ہیں۔

میں مرنے سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے پوری رات مٹھیاں بھینچے بیٹھا رہتا ہوں۔

جیسے ہی صبح ہوتی ہے، ریسکیو اہلکار واپس آ جاتے ہیں۔

لیکن بارش بڑھ جاتی ہے اور حدِ نگاہ مزید خراب ہو جاتی ہے۔

دوپہر ہو جاتی ہے اور ہم اب بھی وہاں موجود ہیں۔

میں اوپر ہیلی کاپٹروں کی آواز سنتا ہوں، زمینی ٹیم کی آوازیں بھی، لیکن کنارے پر ایک بہت بڑی دراڑ ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ اگر وہ وہاں گئے تو مٹی کا تودہ گر سکتا ہے۔

میرا گلا سوج چکا ہے۔

میں بمشکل نگل پا رہا ہوں۔

آنکھوں میں جلن ہے۔

لیکن میں اب بھی کھڑا ہوں اور چڑھنے کا راستہ تلاش کر رہا ہوں۔

اگر مجھے صاف راستہ ملا تو میں اوپر چڑھ جاؤں گا۔

میں ایک اور رات یہاں نہیں گزار سکتا۔

مائیک کہتا ہے: ’ایسا مت کرو۔ اوپر مت چڑھو۔ وہ ہمیں بچا لیں گے۔‘

اچانک بادل چھٹ جاتے ہیں۔

دھوپ کی ایک کرن چٹان پر پڑتی ہے اور مجھے نکلنے کا راستہ دکھائی دیتا ہے۔

میں چڑھنا شروع کرتا ہوں اور جب اوپر پہنچتا ہوں تو پکڑنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔

حقیقت میں آخری ڈیڑھ میٹر صرف ڈھیلی سی بجری ہے۔

میں نیچے دیکھتا ہوں، پھر اوپر، اور سوچتا ہوں: ’خدا! میں نے کیا کر دیا؟‘

مجھے نہیں معلوم کیا کروں اور واپس نیچے بھی نہیں جا سکتا۔

’کیا میں زندہ ہوں؟ کیا میں مر چکا ہوں؟‘

چٹان کے کنارے سے لٹکا ہوا میں دیکھتا ہوں کہ خود کو اوپر کھینچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اپنے بازو بجری میں گاڑ دوں۔

لیکن ایسا کرنا ٹوٹے ہوئے شیشے میں بازو گھسانے جیسا ہے۔

میں اپنا دایاں بازو کہنی تک، پھر بایاں بازو گاڑھ دیتا ہوں اور تین تک گنتا ہوں۔

مجھے نہیں معلوم جسمانی طور پر میں یہ کیسے کر لیتا ہوں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں پلٹتا ہوں اور پیٹھ کے بل گر جاتا ہوں۔

ایک لمحہ لیٹا رہتا ہوں اور سوچتا ہوں: ’کیا میں زندہ ہوں؟ کیا میں مر چکا ہوں؟‘

میں اب بھی ٹھیک سے سانس نہیں لے پا رہا، آنکھوں میں اب بھی جلن ہے۔

لیکن میں باہر آ چکا ہوں۔

میں دہانے کے پچھلے حصے کی طرف دوڑتا ہوں اور رسی دیکھ لیتا ہوں۔

مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ مائیک کو اس کے ذریعے نکال سکوں، اس لیے میں اسے ایک نشان کے طور پر رکھ دیتا ہوں تاکہ معلوم رہے کہ وہ وہاں ہے۔

مجھے امدادی کارکنوں کا کیمپ ملتا ہے، جہاں چند خیمے، پانی کی بوتلیں اور آکسیجن کے سلنڈر ہیں، لیکن وہاں کوئی نہیں۔

میں سوچتا ہوں کہ یا تو کسی کو تلاش کروں گا یا کوئی مجھے ڈھونڈ لے گا۔

میں چلنا شروع کرتا ہوں اور کچھ دیر بعد ایک ہیلی کاپٹر کو منڈلاتے دیکھتا ہوں۔

وہ مجھے دیکھ لیتے ہیں۔

وہ میری طرف دوڑتے ہیں اور جیسے ہی ان میں سے ایک میرا بازو چھوتا ہے، میرا پورا جسم بالکل ڈھیلا پڑ جاتا ہے، جیسے میں جیلی کی تھیلی بن گیا ہوں۔

میں زمین پر گر جاتا ہوں۔

میرا ایڈرینالین ختم ہو جاتا ہے۔

وہ مجھے ہیلی کاپٹر میں باندھ دیتے ہیں اور ہم بیس کیمپ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔

ایک شخص میری پشت تھپتھپاتا ہے۔

اور میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا ہوں، ایسا بے قابو رونا جو اندر کی گہرائیوں سے نکلتا ہے۔

’اب آپ محفوظ ہیں۔ آپ نے یہ کر دکھایا۔‘

ہیلی کاپٹر کی طرف دوڑتے ہوئے میں سب سے پہلے اپنے پائلٹ کریگ کو دیکھتا ہوں۔

’کریگ، تم زندہ ہو! ہمیں لگا تھا تم مر گئے ہو۔‘

کریگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

اس نے ایک ہیلی کاپٹر کو آتش فشاں کے نچلے حصے تک رہنمائی فراہم کی، اس جگہ کے قریب جہاں وہ پناہ لیے رہا تھا، اور وہ اس میں سوار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

مائیک کو ایک دن بعد بچا لیا گیا، عین اس وقت جب وہ اپنی اہلیہ کے لیے چٹان پر ایک پیغام لکھ رہا تھا: ’میں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘

یہ مضمون بی بی سی ورلڈ سروس کے ریڈیو پروگرام ’آؤٹ لک‘ کی ایک قسط پر مبنی ہے۔ آپ اسے انگریزی میں یہاں سن سکتے ہیں۔